Health Is a Wealth

How to Be Safe With Cesial Influenza!

How to Be Safe With Cesial Influenza!

How to Be Safe With Cesial Influenza!

جس پر امسال محکمہ صحت کے بروقت اقدامات اور احتیاطی تدابیر کی بدولت سیز نل انفلوئز ا کے مر یضوں کی تعداد کسی حد تک کم ہے اور علاج کی سہولیات کی بدولت اموات کی شرح میں کمی واقع ہوئی ہے۔ حکومت کی جانب سے ہسپتالوں میں ہنگامی صورتحال نافذ کرتے ہوئے سیزنل انفلوئنزا کے مریضوں کی تشخیص و علاج کے لئے علیحدہ ایمرجنسی آئسولیشن میڈیکل وارڈ قائم کردیے گئے ہیں، جہاں سینئر میڈیکل آفیسرز تعینات اور حفاظتی ویکسی نیشن کا انتظام کیا گیا ہے ۔

ماہرین صحت کے مطابق اس خطرناک مرض سے بچاؤ کے لئے شہریوں کا اس سے مکمل آگاہ ہونا اور حفاظتی تدابیر اختیار کرنا اشد ضروری ہے۔ سیزنل انفلوئنزا ایک خطرناک مگر قابل علاج وبائی مرض ہے جو کہ پاکستان میں موسم سرما ماہ نومبر سے اپریل تک رہتا ہے۔

سیزنل انفلوئنزا کو پہلے سوائن فلو کہا جاتا تھا،اب سیزنل انفلوئنزا ( اے ایچ ون این ون ) کے نام سے جانا جاتا ہے، یہ پھیپھڑوں کا انفیکشن ہے جوکہ ایک وائرس کے ذریعے پھیلتا ہے۔

متاثرہ شخص کے کھانسنے یا چھینکنے سے آلودہ زرات پھیلتے ہیں اور بڑی آسانی سے ایک شخص سے دوسرے شخص کو منتقل ہوسکتے ہیں۔ یہ متاثرہ مریضوں کے سانس لینے سے ہوا، اور ہاتھوں سے مختلف جگہوں پر پھیلتا ہے، اورجب کوئی صحت مند انسان متاثرہ جگہ پر ہاتھ لگاتا ہے تو یہ جراثیم اس کے جسم میں داخل ہوکر اسے بھی دو یا تین دن میں متاثر کردیتا ہے۔ پاکستان میں موسم سرما میں اس مرض کے پھیلنے کی وجوہات یہ ہیں کہ چونکہ قدرت نے سورج کی روشنی میں پائی جانے والی الٹرا وائلٹ شعاعوں کو جراثیم کش بنایا ہے، لیکن موسم سرما میں کیونکہ سورج کی روشنی بہت کم ہوتی ہے یا اس کی طاقت کم ہوتی ہے اس وجہ سے الٹرا وائلٹ ریڈی ایشن جراثیم کو نہیں مار سکتے۔اور سرد موسم میں لوگ سردی سے بچنے کے لیے زیادہ تر بند کمروں میں دیر تک رہتے ہیں،اس دوران متاثرہ شخص کے کھانسنے یا چھینکنے سے مرض بڑی آسانی دوسروں میں منتقل ہو سکتا ہے ۔

علاوہ ازیں ٹھنڈے موسم میں ہوا خشک ہوجاتی ہے جو کہ سانس کی نالیوں میں موجود جھلیوں کو خشک کردیتی ہے اور جراثیم آسانی سے نظام تنفس کو متاثر کرسکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سرد موسم کی وجہ سے انفلوئنزا کا وائرس روز مرہ کی قابل استعمال چیزوں مثلاً تولیہ، رومال، ٹشو، دروازے کے ہینڈل وغیرہ پر زیادہ دیر تک موجود رہتا ہے۔بوڑھے افراد ، بچے ، حاملہ خواتین ، ذہنی دباؤ ، جگر، گردہ، دل ، دمہ، پھیپھڑوں اور شوگر کے عارضے میں مبتلا افراد اس وائرس کا آسان شکار ہوتے ہیں، جنہیں سرد موسم میں اس وائرس سے بچاؤ کے لئے حفاظتی ویکسین کی ضرورت ہوتی ہے۔

سیزنل انفلوئنزا کی واضع علامات سانس لینے میں دشواری، اچانک بخار کا ہوجانا، زیادہ خشک کھانسی، سر میں درد ، پٹھوں اور جوڑوں میں درد ، گلے کا خراب ہونا ، ناک کا بہنا شامل ہیں، یہ علامات عام نزلہ و زکام میں بھی پائی جاتی ہیں لیکن سیزنل انفلوئنزا میں ان علامات کی شدت کہیں زیادہ ہوتی ہے۔واضع رہے کہ عام زکام اور سیزنل انفلوئنزا دو الگ الگ بیماریاں ہیں اور ان کے جراثیم بھی الگ الگ ہیں البتہ دونوں کی علامات بہت ملتی جلتی ہیں، اس کے علاوہ زکام کی علامات کم شدت کی ہوتی ہیں اور یہ جلد ٹھیک ہو جاتی ہیں ، علاوہ ازیں عام نزلہ و زکام میں بچوں اور بزرگوں میں اسہال ، متلی و الٹی زیادہ ہوتی ہے۔

جبکہ ایک مستند معالج ہسٹری اور معائنے سے ان دونوں بیماریوں کے فرق اور مناسب تشخیص کر سکتاہے۔سیزنل انفلوئنزا قابل علاج مرض ہے اور اس سے لاپرواہی کسی طور پر مناسب نہیں کیونکہ انفلوئنزا فلو شدید بیماری سے لے کر موت بھی لاسکتا ہے۔ تشخیص کے بعد مریضوں کا ان کی علامات کے مطابق علاج کیا جاتا ہے جس میں گھر پر بیڈ ریسٹ دیا جاتا ہے تا کہ معاشرے کے دیگر افراد تک خطرناک جراثیم نہ پہنچیں۔ بخار اور درد کو کم کرنے والی ادویات دی جاتی ہیں،مر یض کی خوراک کو بہتر کیا جا تا ہے اور اس کے علاوہ جراثیم کے خلاف اینٹی وائرل ادویات دی جا تی ہیں، مریض اور گھر کے دیگر افراد کو ویکسی نیشن بھی کی جاتی ہے جس کا اثر تقریباً ایک سال تک رہتا ہے،

یہ ویکسین مارکیٹ میں باآسانی دستیاب اور زیادہ مہنگی بھی نہیں ہے لیکن 6 ماہ سے کم عمر بچوں کو ویکسی نیشن نہیں کی جاسکتی۔جسم میں سیزنل انفلوئنزا وائرس سے 1 سے 4 روز کے اندر بیماری کی علامات پیدا ہوتی ہیں اور بروقت علاج سے بیماری تقریبا ًایک سے تین ہفتے میں ختم ہوجاتی ہے لیکن یہ بات بھی توجہ طلب ہے کہ رو بصحت ہونے کے بعد بھی دو سے تین ہفتے تک جراثیم کا اخراج، کھانسنے اور چھینکنے سے جاری رہتا ہے اسی لیے مریض اور مریض کے لواحقین دونوں کو بہت احتیاط کی ضرورت رہتی ہے۔سیزنل انفلوئنزا سے متاثرہ افراد کو چاہیے کہ وہ کھانستے وقت یا چھینک آنے پر اپنے منہ اور ناک پر صاف کپڑا یا پھر ٹشو پیپر رکھیں تاکہ اس مرض کے جراثیم کو مذید پھیلنے سے روکا جاسکے، اور پھر استعمال شدہ کپڑا یا ٹشو پیپر فوری طور پر ضائع کردینا چاہیے۔ اس کے علاوہ عام لوگوں سے میل جول میں احتیاط برتنی چاہئے،

ہاتھوں کے گندا ہونے پر ان سے آنکھوں ، منہ یا ناک کو چھونے سے گریز کرتے ہوئے ہاتھوں کومعیاری اینٹی سیپٹک صابن سے اچھی طرح دھونا چاہئے۔ایسی غذائیں استعمال کرنی چاہیے جن میں زیادہ پروٹین ہوں، مثلاً انڈہ ، چھوٹا گوشت اور دالیں وغیرہ۔ معمولی نزلہ و زکام ہونے پر سیزنل انفلوئنزا سے بچنے کے لئے فوری طور پر مستند معالج سے رجوع کرنا چاہیے، یہاں واضع رہے کہ ہر نزلہ و زکام سیزنل انفلوئنزا نہیں ہوتا لیکن احتیاط کا تقاضا ہے کہ بروقت معالج سے رجوع کیا جائے ، شدید نزلہ و زکام کی صورت میں کاروبار ، سکول اور ہجوم والی جگہوں جیسے مارکیٹ وغیرہ نہ جایا جائے، ہوسکے تو گھر پر ہی رہ کر آرام کیا جائے اور ماسک استعمال کیا جائے۔اس وقت وفاقی اور صوبائی حکومتیں سیزنل انفلوئنزا سے بچاوٴ، اور روک تھام کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے ، شہری صحت و صفائی کی صورتحال یقینی بنا کر اور ہر مناسب احتیاط اور بروقت علاج سے اس مرض پر قابو پاسکتے ہیں۔

Due to the timely measures and precautions of the Department of Health, the number of deadly influenza mortgages is somewhat less and due to treatment facilities, the mortality rate has decreased. Due to the emergency situation in the hospitals, the government has set up separate emergency assessment wards for diagnosis and treatment of cereal influenza patients, where senior medical officers have been deployed and the security vaccination system has been arranged.

Experts need to be aware of the health and safety measures of citizens to prevent this disease from health. Sesal Influenza is a dangerous but cure pneumonia that remains winter months in Pakistan from November to April.

Sesal influenza was first called the Swine Flow, now known as Caesar Influenza (OHNNNN), it is lung infection that spreads through a virus.How to Be Safe With Cesial Influenza!

Coughing or snatching of an infected person spreads spreading agrarians and can easily move from one person to another. It has been breathing with infected patients, and spreads hands to different places, and when a healthy man puts his hand on the affected area, the germs enter into his body and affect it in two or three days.

The reasons for spreading this disease in winter in Pakistan are because the power has made the ultraviolet rays found in the sunlight, but in the winter because the sunlight is very low or its power reduces Therefore, ultra-voltage radiation can not kill the germs.

And in cold weather, people stay in close proximity to most of the closed rooms to avoid winter, during the time of eating or snoring of the affected person, the disease can easily be transferred to others. In addition, the air cools in cool weather that dries the membranes in respiratory tracts and germs can easily affect the respiratory system respiratory.

In addition, due to cold weather, influenza virus remains longer for everyday consumables, such as towels, bowl, tissue, door handle etc.
People suffering from older people, children, pregnant women, mental stress, liver, neck, heart, asthma, lungs and sugar are easy to suffer from virus, which require protection vaccine to prevent this virus in the cold weather. Is.How to Be Safe With Cesial Influenza!

Significant symptoms of ceselin influenza include breathing problems, sudden fever, more dry cough, head pain, muscle and joint pain, throat loss, flow of nose, these signs are also commonly known as cold and cold. But in Caesarea influenza, the symptoms of these symptoms are much higher.

It is clear that general fluid and cesalal influenza are two separate diseases and their germs are different, but both symptoms are very similar, besides symptoms of cold are less intensely and it gets better, as well. In general, chances and diarrhea, children and elders are diarrhea, fatigue and excess. While an authentic therapeutic and inspection can make the difference and proper diagnosis of both these diseases.

Caesareal influenza is a cure of disease and is not suitable for any infertility because influenza flu also causes death from severe illness. After diagnosis, patients are treated according to their symptoms, which are given a bed rest at home so that other people of society do not get dangerous germs.

Patients and fever-reducing medicines are given, coriander food is improved and apart from germs antioxidants are given, patients and other people of the household are also vaccinated. The effect of which stays for almost a year, is not available even more expensive in the vaccine market, but children under 6 months of age can not be vaccinated.

Causal influenza virus causes symptoms of 1 to 4 days in the body, and timely treatment ends in approximately one to three weeks, but it is also a matter of attention that two to three weeks after recovery Germination, digestion and sneezing continues, so patients and patients of both patients are very careful.How to Be Safe With Cesial Influenza!

People suffering from cesial influenza should have a clean cloth or tissue paper on their mouth and nose when they eat a meal or a sneaker so that the disease of the disease can be prevented from spreading, and then the used cloth or tissue paper is immediately Should be avoided.

Apart from this, care should be taken in the face of ordinary people, if they are dirty, they should wash well with anti-sapphire soaps, avoiding touching their eyes, mouth or nose.

Use foods that contain more proteins, such as eggs, small meat and pulses etc. In case of minor and chronic disorder, cesal should be treated with an instant physician to avoid influenza, it is clear that every patient and chronic coconut are not influenza, but caution is required to be treated with timely therapy. In terms of cold, business, school and crowded places such as markets, etc. can not be used, relaxed at home and masks are used. How to Be Safe With Cesial Influenza!

At this time the federal and provincial governments are taking practical measures to prevent cesalin influenza, and prevent measures from prevention, ensuring the health and sanitation situation, and with appropriate care and timely treatment.

sourceUrduPoint.com

Tags

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Close
Close